8 اکتوبر، 2026، 7:38 PM

مکہ معاہدے کے تحت دیگر ممالک سے جنگ نہیں کریں گے، ترکیہ

مکہ معاہدے کے تحت دیگر ممالک سے جنگ نہیں کریں گے، ترکیہ

ترک وزیرِ خارجہ نے زور دے کر کہا ہے کہ ترکیہ مکہ معاہدے کے تحت دیگر ممالک سے جنگ کے لیے کوئی فوجی دستہ روانہ نہیں کرے گا، کیونکہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا حامل ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ترک وزیرِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ترکیہ مکہ معاہدے کے دائرہ کار میں دیگر ممالک پر حملے کے لیے کوئی فوجی دستہ روانہ نہیں کرے گا، کیونکہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا حامل معاہدہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ہاکان فیدان نے زور دیا کہ معاہدۂ مکہ دفاعی ہے، جارحانہ نہیں اور اگر اس معاہدے کے تین رکن ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ کیا گیا تو دیگر ممالک اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاہدۂ مکہ کے ماتحت فوجی کمیٹیاں اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ حوثیوں (یمن کی مسلح افواج) کے حملوں کے خلاف سعودی عرب کی حمایت میں کس طرح شراکت کی جائے۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ بحیرۂ اسود میں بحری جہازوں پر بڑھتے ہوئے حملوں نے بین الاقوامی جہاز رانی کی سلامتی کو متاثر کیا ہے اور ہمیں یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ بحیرۂ اسود روس اور یوکرائن کی جنگ کے لیے ایک نیا محاذ بن جائے۔

News ID 1941966

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha